پیر، 23 دسمبر، 2024

 جیسا کہ آپ جانتے ہیں کمپیوٹر صرف 0 اور 1 کو سمجھتا ہے، کیونکہ یہ بائنری نظام پر کام کرتا ہے۔

تو پھر پی ایچ پی, پائیتھون, سی,  جاوا وغیرہ یہ سب کیاہیں؟

اصل میں ہم جوبھی زبان استعمال کرتے ہیں اوراس کے ذریعے جو بھی ڈیٹا اور ہدایات دیتے ہیں کمپیوٹر میں وہ تمام ڈیٹا اور ہدایات آخرکار بائنری کوڈ (مشین کوڈ) میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جو کمپیوٹر کے ہارڈویئر کے لیے قابل فہم ہے۔


جاوا اسکرپٹ، پی ایچ پی، پائیتھون، جاوا وغیرہ پروگرامنگ زبانیں ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ انسان کمپیوٹر کو ہدایات آسان اور سمجھنے والے انداز میں دے سکیں۔اس کے بعد ان زبانوں کو مشین کوڈ میں تبدیل کرنے کے لیے کمپائلر یا انٹرپریٹر استعمال کیا جاتا ہے۔


کمپائلر اور انٹرپریٹر وہ سافٹ ویئر ہیں جو ہائی لیول لینگویجز کو مشین لینگویج (بائنری) میں تبدیل کرتے ہیں تاکہ کمپیوٹر ان پر عمل کر سکے۔


مثال:


جاوا کوڈ > کمپائلر > بائنری کوڈ (مشین لینگویج)


پائیتھون کوڈ > انٹرپریٹر > بائنری کوڈ


--------@@@@@@-@@--------@@@@------------


*کمپیوٹر کے مختلف لیولز*


ہائی لیول لینگویجز: انسانوں کی آسانی کے لئے بنائی گئی زبانیں (جاوا، پائیتھون وغیرہ)۔


لو لیول لینگویجز: کمپیوٹر کے قریب (اسمبلی لینگویج)۔


مشین لینگویج: کمپیوٹر کی اصل زبان (0 اور 1)۔



ان زبانوں کا مقصد یہ ہے چونکہ انسان مشین کو براہ راست 0 اور 1 میں ہدایات نہیں دے سکتا کیونکہ یہ انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہوگا۔ 

جاوا اسکرپٹ، پی ایچ پی، پائیتھون، اور جاوا جیسی زبانیں انسانوں اور کمپیوٹر کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہیں۔ کمپیوٹر کو اصل میں صرف مشین لینگویج (0 اور 1) سمجھ آتی ہے، لیکن انسانوں کے لیے یہ زبان لکھنا عملی طور پر ممکن نہیں، اسی لیے ہائی لیول زبانیں استعمال ہوتی ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں