Thursday, September 12, 2013

دجال، فری میسن اور الومنیٹی سے متعلق حیرت انگیز حقائق

آج  ہم ایک ایسی سیریل ڈاکومنٹری کا آغاز کر رہے ہیں جو اس دنیا کے سب سے خفیہ رازوں پر سے پردہ اٹھا نے میں مدد دے گی۔ ۔ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب قیامت قریب ہو گی تو دجال کا ذکر لوگوں کی زبان سے ختم ہونے لگے گا اور پھر دجال کا ظہور ہو گا ، خبر دار کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنے قوم کو فتنہ دجال سے نہ ڈرایا ہو لیکن میں تمہیں مزید ایک نشانی بتاتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہ بتائی وہ یہ کہ دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ ۔ ۔
غور فرمائیں کہ دجال اتنی سخت آزمائش اور اتنی سخت مصیبت اور بلا ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا یہاں تک کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی احادیث میں اپنی امت کو اس سے ڈرایا ۔ ۔ کیا بات ہے کہ انبیاء تو اس معاملے کو اتنا سنگین لیں اور ہم اس سلسلے میں بالکل غفلت اور لا علمی برتیں؟؟؟
اسی سلسلے میں کچھ خفیہ حقیقتوں سے پردہ اٹھانے کے لئے اس قسط وار ڈاکومنٹری کو لگایا جارہا ہے جسے دیکھ کر شاید آپ حیران رہ جائیں اور شاید کچھ پریشان بھی ہو جائیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دجالیت کا گھیرا ہمارے نزدیک غیر محسوس طور پر تنگ ہوتا جارہا ہے اور ہم اس جال سے نکلنے کی تدبیر کرنے کی طرف سے بالکل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ۔
یاد رکھیئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دجال کے بارے میں سنو تو اس کے قریب بھی نہ جاو۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے دجال کو حیرت انگیز قوتیں دی ہونگی جس کی وجہ سے وہ پہلے نبوت اور پھر خدائی کا دعویدار ہو جائیگا وہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھے گا اور اپنے ماننے والوں پر آسمان سے پانی برسا دینا اور نہ ماننے والوں کو قحط سالی میں مبتلا کر دینا اس کی قدرت کے ماتحت ہوگا ۔ ۔ ۔
یہ سلسلہ وار ڈاکومنٹری ان تمام حیرت انگیز رازوں سے پردہ اٹھائے گی جو آج دجال کے معاون یا دجالیات کے منتظم فری مسنری اور الومنیٹی نے برسوں چھپا رکھے تھے ۔ ۔ ۔
 اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والے ہیں وہی ہمارے حامی و ناصر ہیں ۔ ۔
انہی کلمات کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں.

1 comments:

  • Abdullah Athar says:
    December 6, 2016 at 2:25 AM

    السلام علیکم فیس بک کا جو لنک دیا گیاوہا سے تو اس کو ختم کردیا گیا ہے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔