Saturday, September 14, 2013

اردو میں سولر پینل کے بارے میں ایک مفید مضمون

اس تحریر میں ہم صرف ان سولر پینل کی اقسام بیان کریں گے جن سے بجلی بنائی جاتی ہے اور ان اقسام میں سے پاکستان کے لئے کونسی بہتر ہے۔ بجلی بنانے والے سولر پینل (Solar Panel) کو پی وی یعنی فوٹووولٹیک پینل (Photovoltaic Panel) کہا جاتا ہے۔ دراصل سولر پینل، سولر سیل (Solar Cell) کا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں کئی ایک سولر سیل کو جوڑ کر ایک پینل تیار کیا جاتا ہے۔ عموماً سولر سیل بیس سے پچیس سال چلتا ہے، اس کے بعد یہ نہیں کہ کام کرنا چھوڑ جاتا ہے بلکہ کارکردگی کم ہو جاتی مگر کام کرتا رہتا ہے۔ بنیادی طور پر سولر سیل کی تین اقسام ہیں۔

(1)مونو کرسٹلائن سیل (Monocrystalline cells)
(2)پولی کرسٹلائن سیل (Polycrystalline cells)
(3)تھِن فلم/ایمارفیس سیل (Thin Film or Amorphous cells)

مونو کرسٹلائن
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کا ایک سیل سلیکان (Silicon) کے ایک کرسٹل سے تیار ہوتا ہے۔ یہ عموماً کالے رنگ کا ہوتا ہے۔ تھوڑی روشنی میں بھی کام کرتا ہے۔ اس پر پڑنے والی روشنی میں سے 18% ہضم کر کے اس سے بجلی بنا دیتا ہے۔ سولر سیل میں یہ سب سے مہنگا ہوتا ہے اور سب سے حساس بھی۔ اس میں گرمی کی شدت برداشت کرنے کی کم طاقت ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ 25ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت تک اپنی پوری کارکردگی دکھاتا ہے۔ درجہ حرارت کی یہ پیمائش ہر سولر پینل کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے اور ہر سولر پینل پر NOCT یعنی Nominal Operating Cell Temperature کی صورت میں لکھی ہوتی ہے۔ اگر مونوکرسٹلائن سولر پینل کے کچھ سیل زیادہ دیر تک روشنی میں ہوں اور اسی وقت میں کچھ سیل سائے میں ہوں تو پھر سیل خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک وقت میں یا تو سارے سیل روشنی میں ہوں یا سارے سائے/اندھیرے میں ہوں

پولی کرسٹلائن
یہ بھی اپنے نام کے مطابق ہے یعنی اس کا ایک سیل سلیکان کے بہت سارے کرسٹل کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ یہ عموماً نیلے رنگ کا ہوتا ہے اور اس میں کہیں کہیں دوسرے رنگ کی لہریں یا دھبے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے اوپر پڑنے والی روشنی میں سے 15% ہضم کر کے اس سے بجلی بناتا ہے اور یوں اگر یہ مونوکرسٹلائن کے سائز جتنا ہو تو پھر اس کی نسبت تھوڑی کم بجلی بنائے گا۔ اس کی قیمت مونوکرسٹلائن کے برابر یا تھوڑی کم ہوتی ہے۔ یہ تھوڑا کم حساس ہوتا ہے اور اسی طرح گرمی کی شدت بھی تھوڑی زیادہ برداشت کرتا ہے۔ عام طور پر یہ 45ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت تک ٹھیک کام کرتا ہے۔ درجہ حرارت کی یہ پیمائش ہر سولر پینل کی مختلف ہو سکتی ہے۔ بالکل مونو کرسٹلائن کی طرح اس کا بھی ایک وقت میں کچھ حصہ روشنی میں اور کچھ حصہ سائے میں ہو تو سیل خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

تھِن فلم / ایمارفیس سیل
اسے کچھ لوگ سولر فلم بھی کہتے ہیں۔ یہ سلیکان کے کرسٹل کی بجائے ایمارفیس سلیکان سے بنا ہوتا ہے۔ عموماً کالے رنگ میں ہوتا ہے۔ یہ اپنے اوپر پڑنے والی روشنی میں سے 10% فیصد ہضم کر کے اس سے بجلی بناتا ہے اور یوں یہ سائز کی مناسبت سے سب سے کم بجلی بناتا ہے۔ یہ سب سے سستا ہوتا ہے اور اس میں گرمی کی شدت برداشت کرنے کی سب سے زیادہ طاقت ہوتی ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مونو اور پولی کی طرح اگر اس کا ایک وقت میں کچھ حصہ روشنی میں اور کچھ حصہ سائے یا اندھیرے میں ہو تو یہ خراب نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ لچک دار ہوتا ہے، یوں وہاں وہاں استعمال ہو سکتا ہے جہاں دیگر دونوں اقسام نہیں ہوتیں۔

چند اہم باتیں
سولر پینل کی اپنی اقسام کے حوالے سے کم یا زیادہ بجلی بنانے سے مراد یہ ہے کہ ایک جتنے سائز میں تینوں اقسام ہوں تو پھر کوئی کم اور کوئی زیادہ بجلی بنائیں گے۔ سولر پینل فی واٹ کے حساب سے ملتا ہے اس لئے چاہے کوئی بھی قسم ہو وہ پورے واٹ دے گی بس مونوکرسٹلائن چھوٹے سائز میں ایک واٹ دے گا اور پولی کرسٹلائن تھوڑے سے بڑے میں اور تھن فلم مزید بڑے سائز میں ایک واٹ دے گی۔
کوئی بھی سولر پینل کتنے درجہ حرارت تک بہتر کارکردگی دیتا ہے یہ درجہ حرارت ہر سولر پینل پر NOCT یعنی Nominal Operating Cell Temperature کی صورت میں لکھا ہوتا ہے۔ اس پیمائش سے جیسے جیسے درجہ حرارت زیادہ ہوتا جاتا ہے، بڑھنے والی ہر ڈگری کے حساب سے اس کی کارکردگی متاثر ہوتی جاتی ہے۔ درجہ حرارت کی وجہ سے کسی سولر پینل کی کتنی کارکردگی متاثر ہو گی یہ سولر پینل پر Temperature coefficient کی صورت میں لکھا ہوتا ہے۔ فرض کریں کسی سولر پینل کا این او سی ٹی 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور ٹمپریچر کوفیشیئنٹ منفی 0.48 فیصد ہے، تو 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک یہ بالکل ٹھیک کام کرے گا لیکن جب درجہ حرارت زیادہ ہونا شروع ہو گا تو 25 سے اوپر والی ہر ڈگری کے ساتھ سولر پینل کی 0.48% کارکردگی متاثر ہو گی، یوں جتنا درجہ حرارت بڑھے گا اتنی ہی زیادہ کارکردگی متاثر ہو گی۔ یاد رہے درجہ حرارت سے مراد ہوا یا ماحول کا درجہ حرارت نہیں ہوتا بلکہ سولر سیل کا اس وقت کیا درجہ حرارت ہے وہ دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ عام طور پر ماحول کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور اسی ماحول میں پڑی ہوئی کسی چیز کا درجہ حرارت زیادہ ہو جاتا ہے، جیسے ہم خود تو دھوپ میں کھڑے ہو سکتے ہیں مگر اسی دھوپ میں زیادہ دیر رکھے ہوئے لوہے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا جا رہا ہوتا۔

سولر پینل کو پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو میرے خیال میں میدانی علاقے جن کا درجہ حرارت گرمیوں میں زیادہ تر35 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے ان کے لئے پولی کرسٹلائن بہتر ہے۔ وہ علاقے جہاں پر ضرورت سے زیادہ گرمی ہوتی ہے اور درجہ حرارت زیادہ تر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہتا ہے ان کے لئے تھِن فلم بہتر ہے۔ زیادہ تر شمالی علاقہ جات یعنی پہاڑی اور ٹھنڈے موسم والے علاقوں کے لئے مونوکرسٹلائن بہتر رہتا ہے۔ یاد رہے درجہ حرارت زیادہ ہونے سے سولر سیل خراب نہیں ہوتے بلکہ بجلی بنانے میں کمی ہو جاتی ہے اور پھر جب درجہ حرارت کم ہو گا تو بجلی زیادہ بنانے لگ جائیں گے۔
پاکستان کے عام میدانی علاقوں میں گرمیوں کا ایک ایسا دن جس میں سارا دن دھوپ ہو۔ اس پورے دن میں اگر مونوکرسٹلائن اور پولی کرسٹلائن کی کل بجلی کا موازنہ کیا جائے تو تقریباً برابر ہی ہو گی یا پھر نہایت معمولی سا فرق ہو گا۔ ہوتا یوں ہے کہ صبح جب سورج نکل رہا ہوتا ہے تو اس وقت مونو زیادہ بجلی بناتا ہے اور پولی کم، جیسے جیسے گرمی کی شدت زیادہ ہوتی جاتی ہے تو مونو کی کارکردگی متاثر ہوتی جاتی ہے اور پولی زیادہ بنانے لگتا ہے اور پھر شام کے وقت واپس مونو زیادہ بناتا ہے۔ یوں دونوں کی کل بجلی تقریباً برابر ہی رہتی ہے۔ البتہ سردیوں میں اور ٹھنڈے علاقوں میں سارا سال مونو کرسٹلائن زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔

نوٹ:-
مونو کرسٹلائن خریدنے والے زیادہ احتیاط اور دھیان سے خریدیں کیونکہ کچھ لٹ مار مچانے والے مونو اور تھن فلم کے ملتے جلتے رنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ گو کہ دونوں کی ساخت میں فرق ہوتا ہے مگر تھِن فلم کو فریم کرنے سے پہلے اس پر سفید اور چمکدار ”سٹیکر“ کچھ اس انداز سے لگاتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے جیسے یہ مونو کرسٹلائن کے سیل ہیں اور چمکدار لائنیں ٹیبنگ وائر (Tabbing Wire) ہیں۔
فرض کریں آپ سو واٹ کا پینل خریدتے ہیں تو پھر چاہے مونو کرسٹلائن ہو یا تھِن فلم، دونوں ہی پورے سو واٹ دیں گے مگر احتیاط اس لئے کرنی ہے کہ ایک تو تھِن فلم زیادہ جگہ گھیرتی ہے اور دوسرا یہ مونوکرسٹلائن کی نسبت کافی سستی ہوتی ہے اور کہیں یہ نہ ہو کہ آپ مونوکرسٹلائن کی قیمت میں تھِن فلم خرید لیں۔
تحریر : محمد بلال محمود۔ mbilalm

Thursday, September 12, 2013

دجال، فری میسن اور الومنیٹی سے متعلق حیرت انگیز حقائق

آج  ہم ایک ایسی سیریل ڈاکومنٹری کا آغاز کر رہے ہیں جو اس دنیا کے سب سے خفیہ رازوں پر سے پردہ اٹھا نے میں مدد دے گی۔ ۔ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب قیامت قریب ہو گی تو دجال کا ذکر لوگوں کی زبان سے ختم ہونے لگے گا اور پھر دجال کا ظہور ہو گا ، خبر دار کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنے قوم کو فتنہ دجال سے نہ ڈرایا ہو لیکن میں تمہیں مزید ایک نشانی بتاتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہ بتائی وہ یہ کہ دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ ۔ ۔
غور فرمائیں کہ دجال اتنی سخت آزمائش اور اتنی سخت مصیبت اور بلا ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا یہاں تک کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی احادیث میں اپنی امت کو اس سے ڈرایا ۔ ۔ کیا بات ہے کہ انبیاء تو اس معاملے کو اتنا سنگین لیں اور ہم اس سلسلے میں بالکل غفلت اور لا علمی برتیں؟؟؟
اسی سلسلے میں کچھ خفیہ حقیقتوں سے پردہ اٹھانے کے لئے اس قسط وار ڈاکومنٹری کو لگایا جارہا ہے جسے دیکھ کر شاید آپ حیران رہ جائیں اور شاید کچھ پریشان بھی ہو جائیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دجالیت کا گھیرا ہمارے نزدیک غیر محسوس طور پر تنگ ہوتا جارہا ہے اور ہم اس جال سے نکلنے کی تدبیر کرنے کی طرف سے بالکل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ۔
یاد رکھیئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دجال کے بارے میں سنو تو اس کے قریب بھی نہ جاو۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے دجال کو حیرت انگیز قوتیں دی ہونگی جس کی وجہ سے وہ پہلے نبوت اور پھر خدائی کا دعویدار ہو جائیگا وہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھے گا اور اپنے ماننے والوں پر آسمان سے پانی برسا دینا اور نہ ماننے والوں کو قحط سالی میں مبتلا کر دینا اس کی قدرت کے ماتحت ہوگا ۔ ۔ ۔
یہ سلسلہ وار ڈاکومنٹری ان تمام حیرت انگیز رازوں سے پردہ اٹھائے گی جو آج دجال کے معاون یا دجالیات کے منتظم فری مسنری اور الومنیٹی نے برسوں چھپا رکھے تھے ۔ ۔ ۔
 اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والے ہیں وہی ہمارے حامی و ناصر ہیں ۔ ۔
انہی کلمات کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں.

اردو کی بورڈ کا نقشہ

اس پوسٹ میں کی بورڈ کی مکمل شکل موجود ہے اور کس Key سے اردو کا کونسا حرف لکھا جائے گا وہ بھی ساتھ لکھ دیا گیا ہے۔ اردو کے تمام حروف کے بارے میں درج ہے۔ جس جگہ
 نشان نظر آرہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نشان کی جگہ کوئی حرف ہو گا اور جو اس نشان کے ساتھ نظر آ رہا ہے وہ اس حرف کے اوپر یا نیچے لکھا جائے گا مثال کے طور پر
 سے مراد زبر ہے۔ جس کسی حرف کے ساتھ چھوٹا سا ”ع“ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ حرف جب عربی لکھی جائے تو استعمال کیا جائے گا اور جس جگہ چھوٹا سا ”ر“ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ قرآن پاک میں استعمال ہونے والے رموزِ اوقاف میں سے ہے۔


کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے چند اصول

جس طرح کمپیوٹر پر انگریزی یا دوسری کوئی زبان لکھتے ہوئے کچھ اصول ہوتے ہیں اسی طرح اردو لکھتے ہوئے بھی کچھ اصول ہیں جو درج ذیل ہیں۔ 
1:- جہاں آپ اردو لکھ رہے ہیں وہاں تحریر کی سمت Right to Left کر لیں جو کہ دائیں طرف کے Ctrl+Shift سے ہو گی۔ 

2:- اگر ہو سکے تو تحریر کا رسم الخط (Font) اردو کا استعمال کریں جیسے ”جمیل نوری نستعلیق“ یا کوئی بھی اردو کا فانٹ جو آپ کو پسند ہو۔ ویسے کوشش کریں کہ عام تحریر کسی نستعلیق فانٹ میں لکھیں کیونکہ اردو پڑھنے والوں کو نستعلیق فانٹ ہی زیادہ پسند ہے ویسے بھی اردو پڑھنے والوں کو نستعلیق کی عادت پڑ چکی ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ کوئی نستعلیق فانٹ ہی استعمال کریں۔ 

3:- اردو تحریر لکھتے ہوئے سپیس کا استعمال دھیان سے کریں نہیں تو تحریر کی خوبصورتی متاثر ہو سکتی ہے۔ 
جس طرح انگریزی لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد سپیس دی جاتی ہے اسی طرح اردو لکھتے ہوئے بھی ہر لفظ کے بعد سپیس دی جاتی ہے اور جب کوئی فقرہ ختم ہو تو اس کے آخری لفظ کے بعد سپیس نہیں دی جاتی بلکہ آخری لفظ کے بعد ختمہ (۔) ڈالتے ہیں اور پھر اگر اسی لائن پر نیا فقرہ شروع کرنا ہو تو نیا فقرہ شروع کرنے سے پہلے سپیس دی جاتی ہے۔ اسی طرح کامہ کا استعمال کیا جاتا یعنی جب کسی لفظ کے بعد کامہ ڈالنا ہو تو اُس لفظ کے بعد سپیس دیئے بغیر کامہ ڈالتے ہیں اور پھر نئے لفظ کے شروع میں سپیس دیتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر ہم دو فقرے لکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہاں کہاں سپیس دی گئی ہے۔ 
فقرے:- ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“ 
اب ان دونوں فقروں میں درج ذیل الفاظ کے بعد سپیس دی گئی ہے۔
”اللہ-کے-سوا-کوئی-معبود-نہیں۔ محمد-ﷺ-اللہ-کے-رسول-ہیں۔“

امید ہے اردو لکھتے ہوئے کہاں کہاں سپیس دینی ہے اس بارے میں آپ جان گئے ہوں گے۔ ویسے اردو تحریر میں سپیس دینے کا اصول ویسے ہی ہے جیسے انگریزی میں ہے۔ 

4:- جب کسی لفظ کے درمیان ”ی“ استعمال ہو تو وہاں پر چھوٹی ”ی“ لکھیں۔ اسی طرح جب کسی لفظ کے درمیان نون (ن) استعمال ہو تو وہاں نون نقطہ والا لکھیں نہ کہ نون غنہ (ں)۔ 

5:- اگر کسی لفظ میں الف مد (آ) لکھنا ہو تو اسے ایک Key سے ایک دفعہ دبا کر لکھیں نہ کہ پہلے ایک Key سے ”الف“ لکھیں اور پھر الف کے اوپر مد ( ۤ) ڈالیں۔ اردو کی بورڈ لے آؤٹ میں الف مد (آ) Shift+a پر ہوتا ہے۔ 

6:- اردو کا حرف ”ء“ بہت زیادہ الفاظ میں استعمال ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کی اردو میں ”ء“ کی کئی صورتیں ہیں یعنی کسی لفظ کے شروع میں ، درمیان میں، آخر پر، اوپر اور نیچے۔ کمپیوٹر میں اردو لکھتے ہوئے ”ء“ کی ہر صورت کے لئے علیحدہ علیحدہ Key استعمال کی جاتی ہے۔ اگر کسی لفظ کے درمیان ”ء“ لکھنا ہو تو اسے ”ئ“ لکھا جاتا ہے جو کہ اردو کی بورڈ لے آؤٹ میں ”u“ پر ہوتا ہے اور ”ء“ کی آخری صورت Shift+u ہوتی ہے۔ 
عام طور پر اردو میں ”ء“ درمیانی، آخری اور ”و“ کے اوپر لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ”و“ کے اوپر ”ء“ لکھنے کے لئے علیحدہ سے Key موجود ہے جیسا کہ الف مد (آ) پورا ایک ساتھ لکھنے کے لئے ایک ہی Key موجود ہے اسی طرح ”و“ کے اوپر ”ء“ لکھنے کے لئے بھی ایک ہی Key موجود ہے۔ اردو کی بورڈ لے آؤٹ میں ”ؤ“ Shift+w سے لکھا جاتا ہے۔ 

نوٹ:- اگر آپ کمپیوٹر پر اردو لکھتے ہوئے اصولوں کا کوئی خاص خیال نہ رکھیں تو ظاہری تحریر پر کوئی خاص فرق نہ بھی پڑتا ہو لیکن ایک تو آپ کو غلط انداز تحریر کی عادت پڑ جائے گی اور دوسرا جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ جب آپ یا کوئی دوسراآپ کی تحریر سے کوئی لفظ تلاش کرنا چاہے گا تو آپ کو یا کسی دوسرے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

Wednesday, September 11, 2013

کمپیوٹر پر اردو کیسے لکھیں ؟

ونڈوز(Windows) میں اردو پڑھنے اور لکھنے کی بنیادی سہولت پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ مزید اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے لئے اردو فانٹ اور لکھنے کے لئے اردو کی بورڈ لے آؤٹ انسٹال کرنا ہوتا ہے۔ ونڈوز وسٹا اور ونڈوز سیون میں صرف یہی دو کام کرنے ہوتے ہیں جبکہ ونڈوز ایکس پی میں ان دونوں کے علاوہ ایک اضافی کام یعنی اردو ایکٹیو(Active) بھی کرنی ہوتی ہے۔ جس کے لئے ونڈوز ایکس پی کی سی ڈی کی ضرورت پڑتی ہے۔ یوں تو یہ سارے مراحل آسان ہیں، جو کہ ایک عام کمپیوٹر استعمال کرنے والا بھی نہایت آسانی سے کر سکتا ہے، لیکن ان مراحل کو مزید آسان بلکہ بہت ہی آسان بنانے کے لئے ”پاک اردو انسٹالر“ تیار کیا ہے۔ ”پاک اردو انسٹالر“ تینوں ونڈوز میں بغیر کسی سی ڈی کے سارے کام خودبخود کر دیتا ہے۔ جس سے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی جگہ بالکل آسانی سے اردو لکھی جا سکتی ہے۔ 

آپ نے ”پاک اردو انسٹالر“ انسٹال کر لیا ہے یوں آپ کے کمپیوٹر پر اردو کی مکمل سپورٹ شامل ہو چکی ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر کسی بھی جگہ جہاں دوسری کوئی زبان لکھی جاتی ہے اب وہاں اردو بھی لکھی جا سکے گی۔ ای میل، چیٹ، انٹرنیٹ پر تلاش، کسی فائل یا فولڈر کا نام اور کسی ٹیکسٹ ایڈیٹر جیسے مائیکروسافٹ ورڈ وغیرہ میں بھی اردو لکھ سکتے ہیں۔ ”پاک اردو انسٹالر“ انسٹال ہونے اور کمپیوٹر ری سٹارٹ کرنے کے بعد Taskbar پر Language bar نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ نیچے والی تصاویر میں نظر آ رہی ہے۔
ونڈوز ایکس پی
ونڈوز وسٹا
ونڈوز سیون
جس سافٹ ویئر میں اردو لکھنی ہو وہاں پر بائیں طرف کا Alt+Shift دبائیں تو آپ کا کمپیوٹر اس سافٹ ویئر میں اردو موڈ میں ہو جائے گا یعنی جب بھی کوئی Key دبائیں گے تو اردو لکھی جائے گی۔ اسی طرح کسی سافٹ ویئر کا موڈ انگلش میں تبدیل کرنے کے لئے دوبارہ بائیں طرف کا Alt+Shift دبائیں۔ جس سے دوبارہ انگلش موڈ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ لینگوئج بار پر کلک کر کے بھی موڈ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی سافٹ ویئر میں دیکھنا ہو کہ کمپیوٹر اس سافٹ ویئر میں کس موڈ پر ہے تو ٹاسک بار پر موجود لینگوئج بار دیکھیں۔ اگر لینگوئج بار میں ”UR“ لکھا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اردو موڈ پر ہے اور اسی طرح اگر ”EN“ لکھا ہو تو انگلش موڈ پر ہے۔ 

اگر آپ کسی ٹیکسٹ ایڈیٹر جیسے مائیکروسافٹ ورڈ وغیرہ میں اردو لکھنا چاہتے ہیں تو بائیں طرف کے Alt+Shift سے کمپیوٹر کا موڈ انگلش سے اردو کرنے کے ساتھ ساتھ دائیں طرف کے Ctrl+Shift سے تحریر کی سمت بھی دائیں سے بائیں(Right to Left) کر لیں۔ یوں اگر آپ اردو لکھتے ہوئے درمیان میں کوئی انگلش کا لفظ لکھیں گے تو آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اس کے علاوہ بہتر ہے کہ فانٹ والی فہرست میں سے اردو کا کوئی فانٹ جیسے جمیل نوری نستعلیق (Jameel Noori Nastaleeq) بھی منتخب کر لیں۔ 

عام طور پر اردو ویب سائیٹ اور دیگر جگہوں پر استعمال ہونے والے اردو کے تین فانٹ ”پاک اردو انسٹالر“ میں شامل کیے گئے ہیں۔ جن میں خوبصورت ”جمیل نوری نستعلیق“، کرلپ کا ”اردو ویب نسخ“ اور بی بی سی اردو کا ”اردو نسخ ایشیا ٹائیپ“ شامل ہیں۔ 
یاد رہے ایک وقت میں دو یا زیادہ زبانیں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ دو سے زیادہ زبانیں ہونے کی صورت میں جب بائیں طرف کا Alt+Shift دبائیں گے تو موڈ ایک زبان سے دوسری اور پھر دبانے سے دوسری سے تیسری اور اسی طرح موڈ آخری زبان تک جائے گا اور پھر دبانے سے واپس پہلی پر آجائے گا۔

Saturday, September 7, 2013

گمنام سپاہی

سترہ ستمبر دو ہزار پانچ کی ایک صبح آزاد کشمیر رجمنٹل کمانڈینٹ کے سامنے ایک عمر رسیدہ شخص، لباس دریدہ ،زبان خاموش ہے اشارے سے بتاتا ہے کہ وہ ڈیوٹی پر واپس آ گیا۔بولنے سے معذور ہے۔کاغذ پر لکھتا ہے تین تین پانچ ایک تین نو
335139
کیا؟ چالیس سال بعد مقبول حسین؟لیکن وہ تو غائب تھا؟ شہید سمجھے گئے سپاہی کا چہرہ سچائی سے دمک رہا ہے وہ سپاہی ہے
"مقبول حسین"
سپاہی مقبول حسین ستمبر انیس سو پینسٹھ میں کیپٹن شیر کی قیادت میں مشن پر روانہ ہوتے ہیں، ان کے بھائی مکھن خان ،دو بہنیں،ان کی منگیتر ،ان کے والد اور والدہ انھیں اپنی دعاؤں اور نیک تمناؤں کی چھاؤں میں خدا حافظ کہتے ہیں۔یہ مشن مقبوضہ کشمیر میں دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے اس کے اسلحے کے ڈپو اور دوسری تنصیبات کو تباہ کرنے پر مبنی تھا۔تاکہ دشمن کی اس تیاری پر برقت کاری ضرب لگائی جا سکے جو وہ پاکستان پر حملے کے لیے کر رہا تھا۔
مقبول حسین شانے پر وائرلیس سیٹ رکھے،ہاتھ میں رائفل لیے معرکے میں اترتے ہیں۔مشن کی تکمیل کے بعد فورس اپنے بیس کی جانب واپس آتی ہے لیکن سپاہی مقبول حسین دشمن کے فائر کی زد میں آ جاتے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں۔
جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔انھیں جنگی قیدی بھی نہیں بنایا جاتا اور نہ ہی ان کا اندراج سول قیدیوں میں کیا جاتا ہے۔
انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کے جنگی قیدیوں کے تبادلے میں بھی ان کا کہیں ذکر نہیں۔۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ان افراد کی فہرست میں لکھے جاتے ہیں جن کے بارے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ کھو گئے ہیں یا شہید ہو گئے ہیں۔
کون جانے؟ سپاہی مقبول حسین دشمن کی قید میں ایسی اذیتیں برداشت کرتے رہے انسانی ظلم کی تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی۔قیدِ تنہائی،تنگ و تاریخ دن رات،موسموں کی سختی،انسانیت سوز مظالم،جانوروں کی طرح رینگنے کا حکم،جسمانی ایذا کے ایسے ایسے حربے جو حیوانیت اور بربریت کی ناقابل یقین مثال ہیں۔
"
جواب دو بولتے کیوں نہیں ہو؟ سچ بتاؤ پاکستان میں کہاں کہاں فوجی ٹھکانے ہیں تمہیں سب راز اگلنے ہوں گے۔بولو جو کچھ تمہیں ہم کہتے ہیں۔"
سپاہی مقبول حسین پر خونخوار کتے بھی چھوڑے جاتے ہیں جو ان کی پنڈلیاں چپا جاتے ہیں لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہیں ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے

"
بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی

پاکستان زندہ باد،پاکستان زندہ باد۔"

اس قید خانے کی دیواریں مقبول حسین کے خون سے رنگ جاتیں ہیں وہ ہر جگہ لکھ دیتے ہیں

"پاکستان زندہ باد،پاکستان زندہ باد۔"

کاٹ دو اس کی زبان۔۔کاٹ دو

پھران کی زبان کاٹ دی جاتی ہے تا کہ وہ پاکستان جا کر کبھی بھی بتا نہ سکیں کہ ان کے ساتھ کیسا غیر انسانی سلوک رواہ رکھا گیا۔۔۔انھیں نفسیاتی مریض بنا کر پاکستان دھکیل دیا جاتا ہے،
اور جب وہ چالیس سال بعد اس سرزمین پر لوٹتے ہیں تو آج ان کے استقبال کے لیے ان کے گاؤں میں نہ ان کا بھائی مکھن خان تھا اور نہ ان کے ساتھ بچپن میں ان کے ساتھ کھیلنے کودنے والا کوئی شخص ۔۔
بس چند قبریں تھی اور ایک حوصلہ

مگرکون جانے

" جو چپ رہی گی زبانِ خنجر
لہو پکارے گا آستین کا۔"

اور آج چالیس سال بعد سپاہی مقبول حسین نمبر تین تین پانچ ایک تین نو، ڈیوٹی پر پھر حاضر ہے

گمنـام سپاهى - نہـــاب الرحمن

Sunday, September 1, 2013

یہ رہا تیرا کرایہ

میرے ناناجی سیدھے سادھے کھرے انسان تھے۔ اُن کا ضمیر شفاف تھا۔ معمولی سی غلطی پر بھی وہ اپنے ضمیر کی سرزنش
کو محسوس کر لیتے تھے۔ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے تھے جس سے اُن کو کسی بے چینی سے دوچار ہونا پڑے۔ ہر انسان کی اپنی طبیعت، اپنی فطرت ہوتی ہے۔ مزاج اور عادات میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جو میں اِن صفحات میں لکھنے لگا ہوں۔ یہ سادگی پر مبنی کہانی ہے۔ آج سے ۵۰،۶۰؍ سال قبل کے دور پر ہم تصوراتی نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اُس دور میں سیدھے سادھے خوش خلق باضمیر انسانوں کی بہتات تھی۔
جبکہ آج کے دور میں یہ چیز دیکھنے کو نہیں ملتی۔ کہیں کوئی ایک انسان ایسا نظر آجائے توہم حیران رہ جاتے ہیں کہ اس جدید مشینی دور میں یہ سادگی کیونکر ممکن ہے۔ آج کے بچے بھی بلا کے ہوشیار ہیں۔ یہ جدید دور ہے۔ سادگی، شرافت، بھائی چارہ، حسنِ اخلاق، محبت، اخوت، یہ سب دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ نفسا نفسی کا عالم ہے۔ پرانے دور میں یہ سب کچھ عام دیکھنے کو ملتا تھا۔ ٹریفک کا اتنا اژدھام بھی نہیں ہوتا تھا۔  
جدید قسم کی گاڑیاں نہیں تھیں۔ ٹرین کا سفر ہوتا تھا یا کھٹارہ قسم کی بسیں ہوتی تھیں۔

لوگ اِدھر اُدھر سفر بہت کم کرتے تھے۔ جب سفر کرنے کا موقع آتا تو خوب لطف اٹھاتے تھے۔ منزل پر پہنچنے کی جلدی نہیں
 ہوتی تھی۔ دوران سفر کھڑکی کے قریب بیٹھنے کو ترجیح دیتے تھے کہ باہر کے مناظر دیکھے جائیں۔ ہمارا سفر بہاول پور سے خان پور اور خان پور سے بہاول پور تک محدود تھا۔ کراچی کا صرف نام سنا تھا۔ مختلف افواہیں مشہور تھیں۔ کوئی کہتا تھا کہ ٹرین تین، چار دن بعد کراچی پہنچتی ہے۔ کراچی پرستان کی طرح مشہور تھا۔ لوگ دل میں تمنا رکھتے تھے کہ کراچی شہر دیکھا جائے مگروہاں
جانے کے وسائل کسی کے پاس نہ تھے۔ کئی بوڑھے تو اپنے گائوںیا گوٹھ تک تمام عمر محدود رہے۔ گھر سے نکلنا، کھیتوں میں کام کرنا اور گھر چلے جانا، یہ تھی زندگی۔ ہمارے گائوں سے ۳؍ میل دور گڑھی اختیار خان واقع ہے۔ ہمارے پھوپھا کا نام نظام دین تھا۔ نظام دین اپنی پوری زندگی میںگڑھی اختیار خاں تک نہ جا سکا۔ یہ تھی زندگی۔ ناناجی کبھی کبھار خان پور سے بہاول پور آتے اور چند روز رہ کر چلے جاتے تھے۔ سفر تفریح کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک بار ناناجی بہاول پور آئے۔ چند روز ہمارے پاس رہے ۔ پھر واپس جانے کی تیاری کر لی۔ میرے چچا جی ذرا جلدباز اور غصے والے انسان تھے۔ انھوں نے بھی ہمارے نانا کے ہمراہ خان پور جانے کا ارادہ کرلیا۔ اُن دنوں ریلوے اسٹیشن تک جانے کے لیے تانگے ہوتے تھے یا پھر پیدل ہی یہ معمولی سفر کر لیا جاتا تھا۔

روپے پیسے بہت کم ہوتے تھے۔ بچت اسکیم پر عمل کیا جاتا تھا۔ میرے ناناجی میرے چچا کے چچا تھے۔ دونوں نے صبح کو تیاری کی اور رومال میں روٹیاں، اچار باندھ کر پیدل ہی اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگئے۔ دو ڈھائی میل کی مسافت تھی۔ یہ سفر ان کے لیے معمولی بات تھی کیونکہ وہ ۱۰، ۱۲؍ میل تک کا سفر بھی پیدل کرنے کے عادی تھے۔ خان پور سے گڑھی اختیار خان دس، بارہ؍ کوس میل دور ہے۔ اس سے آگے ہمارا گائوں جسے بستی دُھکڑاں کہتے ہیں، ۳؍ میل دور ہے۔ یہ کل اٹھارہ، بیس میل کی مسافت تھی۔
یہ مسافت بھی وہ کبھی کبھار پیدل ہی طے کر لیتے تھے۔ پیدل سفر سے وہ گھبراتے نہیں تھے۔ یہ دونوں جب اسٹیشن پہنچے اس وقت لُنڈی پسنجر اسٹیشن پر آ چکی تھی اور جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ ٹکٹ گھر پر ٹکٹ لینے والوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ اگر یہ ٹکٹ لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہو جاتے تو پسنجرٹرین چلی جاتی۔ یہ ہاتھ ملتے رہ جاتے۔ پھر دوسرے دن تک سفر ملتوی کرنا پڑتا۔ ان کو یہ پسنجرٹرین تیزرفتار ٹرینوں سے زیادہ پسند تھی۔
کیونکہ یہ ہر چھوٹے بڑے اسٹیشن پر رکتی تھی۔ اس کا رکنا، چلنا اور پھر جنکشن اسٹیشن پر زیادہ دیر کھڑے رہنا ناناجی کو پسند تھا۔ وہ ٹرین کے سفر سے بہت زیادہ محظوظ ہوتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ میرا جی چاہتا ہے ٹرین میں بیٹھا رہوں، نیچے نہ اتروں۔ خان پور کٹورہ سے بہاول پور آتے ہوئے جب کبھی لنڈی لیٹ ہو جاتی تو ناناجی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے دعا کرتے کہ اللہ کرے سمہ سٹہ جنکشن پر اس کو رات ہو جائے۔ تاکہ بوگیوں کے بلب جل اٹھیں اور میں روشن ڈبوں میں بیٹھ کر ٹرین کے سفر کا صحیح لطف اٹھا سکوں۔ سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے تھے۔ اکثر لنڈی مغرب کے وقت سمہ سٹہ پہنچتی اور پھر پون گھنٹہ ٹھہرتی۔ جس سے تاریکی ہو جاتی۔ بوگیوں کے بلب جل اٹھتے۔
ناناجی بچوں کی طرح جلتے بلب دیکھ کر خوش ہوتے۔ پھر چھت میں نصب بلبوں کو تکتے رہتے۔ یہ لنڈی ٹرین روہڑی سے چل کے خان پور دن کے ڈھائی بجے پہنچتی۔ پھر ساڑھے تین بجے وہاں سے چلتی تو ناناجی کی رات ہونے کی دعا رنگ لاتی۔ ہاں البتہ بہاول پور سے جب جاتے دعا قبول نہ ہوتی کیونکہ یہ ٹرین خانیوال سے چل کے صبح ۹؍بجے بہاول پور آ جاتی تھی۔ پھر دن کے دو ڈھائی بجے تک خان پور پہنچ جاتی تھی۔ اس طرح دن کی روشنی میں ٹرین سے اترنا ناناجی کو پسند نہ تھا۔ بہاول پور سے خان پور تک کل ۱۴؍ اسٹیشن تھے۔ ناناجی چاہتے تھے کہ ہر اسٹیشن پر ٹرین رکتے چلتے منزل کی طرف بڑھے تو مزہ آتا ہے۔

اُن کو اِن تمام اسٹیشنوں کے نام بھی یاد ہو گئے تھے۔ جو وہ تفصیل سے ہمیں بتا دیتے تھے بہاول پور، سمہ سٹہ، کلانچ والا، مبارک پور، ٹبی عزت، ڈیرہ نواب صاحب، کلاب، چنی گوٹھ، میتلا، تنواری، فیروزہ، لیاقت پور، جیٹھی بُٹھہ، خان پور جنکشن۔ ناناجی کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ لنڈی پسنجر سب ٹرینوں سے زیادہ چلتی ہے۔ اس کا مقابلہ ڈاک میل یعنی تیز گام بھی نہیں کر سکتی۔ کیونکہ وہ لنڈی کے مسافر تھے۔ اس لیے اسی کے گُن گاتے رہتے تھے۔ ایک اور گاڑی آتی تھی جس کا نام وزیر آباد تھا۔ کبھی لنڈی خانیوال سے آتے ہوئے لیٹ ہو جاتی تو ناناجی وزیرآباد ٹرین میں سوار ہو جاتے۔
جس کی بوگیوں میں سیدھی سبز رنگ کی پھٹیاں لگی ہوتی تھیں اور برتھوں میں زنجیر لگے ہوتے تھے۔ ان پھٹیوں کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ دیار کی لکڑی ہے۔ دیار کی لکڑی کو کافی مضبوط مانا جاتا تھا۔ وزیرآباد گاڑی بہاول پور سے چل کے اگلے اسٹیشن سمہ سٹہ جنکشن پر ختم ہو جاتی تھی۔ ناناجی لنڈی کے آنے تک وزیرآباد کے ڈبوں میں مختلف جگہوں پر بیٹھ کر دل پشوری کرتے رہتے تھے۔ ٹرین سے عشق کا یہ عالم تھا۔‘‘
ویسے ریل کی پٹڑی پر کئی ڈبوں کا ایک ساتھ چلنا سب کو پسند تھا۔ لوگ کھڑکی سے سر نکال کر ٹرین کی لمبائی سے خوب محظوظ ہوتے تھے۔ درختوں کا پیچھے دوڑنا، کھمبوں کا پیچھے رہ جانا، نہروں کے اوپر سے گزرنا، دریا کے پل سے گزرنا، یہ سب ریل کے سفر میں دیکھنے کو ملتا تھا۔ لوگ ریل کا سفر بڑے شوق سے کرتے تھے۔ لمبے سفر سے بور نہیں ہوتے تھے۔ اس وقت لوگ ریل کے قصیدے پڑھتے تھے۔ آج کی طرح نہیں کہ دوچار جگہ رک گئی تو فوراً مسافر چلا اٹھتے ہیں۔ یہ ٹرین ہے یا چھکڑا۔‘‘

میرے چچا مولوی صادق صاحب نے بھانپ لیا کہ اگر ہم ٹکٹ کے چکر میں پڑے تو لنڈی چلی جائے گی۔ انھوں نے میرے نانا سے کہا آئو میرے ساتھ۔ ٹی ٹی کو پیسے دے کر ٹکٹیں بنوا لیں گے۔ وقت کم ہے، گاڑی نکل جائے گی۔ سردیوں کے دن تھے۔ وہ دونوں تیزی سے پلیٹ فارم پر پہنچے۔ گاڑی رینگنے لگی تھی۔ وہ دونوں بھاگ کر ایک بوگی میں سوار ہو گئے۔ بوگی میں لمبی سیٹیں خالی پڑی تھیں۔ وہ ایک سیٹ پر بیٹھ گئے۔ میرے چچا نے اپنا کمبل تہہ کرکے نیچے رکھ لیا تاکہ سیٹ آرام دہ ہو جائے۔
میرے ناناجی کھڑکی کی طرف بیٹھ گئے اورباہر کے نظاروں میں کھو گئے۔ ٹرین چلتی، رکتی خان پور کے قریب پہنچ گئی۔ کوئی بھی ٹکٹ چیکر بوگی میں نہیں آیا۔ جب منزل قریب آ گئی تو ناناجی کو بغیر ٹکٹ سفر کرنے کا افسوس ہونے لگا۔ ان کے ضمیر نے ملامت شروع کردی۔ ضمیر کی خلش سے تنگ ہو کر انھوں نے جیب سے کچھ رقم نکالی اور اپنے بھتیجے کی نظر بچا کر سیٹ کے کونے پر رکھ دی۔ کھڑکی کے قریب دیوار پر ہاتھ رکھ کر ناناجی آہستہ سے گاڑی سے مخاطب ہوئے، مائی لُنڈی!… ناراض نہ ہونا، ہم نے ٹکٹ نہیں لیے۔ تیرا کرایہ میں نے سیٹ پر رکھ دیا ہے۔
ٹرین رک چکی تو وہ دونوں عجلت میں نیچے اترے۔ ناناجی مطمئن تھے کہ انھوں نے مائی لُنڈی کو کرایہ دے دیا ہے! ٹکٹ دونوں کے پاس نہیں تھے۔ مین گیٹ سے وہ باہر نہیں جا سکتے تھے۔ چچا جی نے کافی دور جا کر ایک جگہ جنگلے میں خلا دیکھا۔ وہ دونوں وہاں سے باہر نکلے اور لمبا چکر کاٹ کر مین گیٹ کے سامنے ایک ہوٹل میں جا بیٹھے۔ میرے چچا نے دو پیالے دودھ کا آرڈر دیا تاکہ دودھ کے ساتھ روٹی کھائی جاسکے۔

ویسے تو اچار بھی تھا مگر وہ ذائقہ تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ ہوٹل سے اُن کو لنڈی ٹرین اسٹیشن پر کھڑی صاف نظر آرہی تھی۔ اُن کو کھانا کھاتے ہوئے آدھا گھنٹہ لگا۔ اس دوران لنڈی نے اپنا وقت پورا کیا اور روہڑی کی طرف چلی گئی۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو اپنی جگہ سے اٹھے۔ اچانک میرا چچا پریشان ہو گیا۔ ناناجی نے پوچھا کیا بات ہے۔ تب چچا جی بولے۔ جلدی میں میں اپنا کمبل تو ٹرین کی سیٹ سے اٹھانا بھول ہی گیا ۔
تب میرے ناناجی بول اٹھے۔ ’’بھئی ضرور تم نے مائی لُنڈی کا کرایہ چُکتا نہیں کیا ہوگا۔ اس لیے وہ تجھ سے ناراض تھی۔ تیرا کمبل ساتھ لے گئی۔‘‘
میرے چچا نے اپنے چچا یعنی میرے ناناجی سے کہا ‘‘ٹکٹ تو تو نے بھی نہیں لیا تھا وہ تیرے ساتھ تو ناراض نہیں ہوئی۔‘‘
میرے ناناجی نے کہا میں نے ٹکٹ نہیں لیا تھا لیکن ٹکٹ کی رقم مائی لنڈی کی سیٹ پر رکھ کر میں نے اسے کہہ دیا تھا، مائی لنڈی یہ رہا تیرا کرایہ۔ میں نے تو مائی لنڈی کو کرایہ ادا کر دیا تھا۔ تو نے کرایہ نہیں دیا۔ اس لیے ناراض ہو کر وہ تیرا کمبل کرائے کے بدلے میں ساتھ لے گئی۔ ناناجی کی بات سن کر چچا جی لاجواب ہو گئے اور انھوں نے عہد کر لیا کہ آئندہ وہ ناراض مائی لنڈی میں بغیر ٹکٹ سفر نہیں کریں گے۔خدا جانے وہ اپنے عہد کو کب تک نبھائیں گے۔
بشیر احمد بھٹی : اردو ڈائجسٹ

موت کا فرشتہ

شام کے وقت ڈرائیور ایک خالی وین دوڑائے چلا جا رھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک بابا جی سواری کے انتظار میں کھڑے ہیں اچانک گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور گاڑی آھستہ ھوتے ھوئے سڑک کے ایک طرف کھڑی ھو چکی تھی.. بابا جی آگے بڑھے اور وین کا دروازہ کھول کر ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر آبیٹھے…
“کہاں جانا ھے آپ کو بابا جی؟“ ڈرائیور نے گاڑی دوڑاتے ھوئے سوال کیا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا ھے… صرف آپ کے پاس بھیجا گیا ھے مجھے…. میں موت کا فرشتہ ھوں…“
“ہاہاہا… خوب مذاق کرتے ھیں آپ بھی بابا جی۔“ ڈرائیور نے قہقہہ لگایا…
تھوڑی دیر بعد ڈرائیور کو سڑک کے کنارے دو عورتیں کھڑی نظر آئیں۔ ایک نے وین کو رکنے کا اشارہ کیا۔ ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ وہ خوش تھا کہ چلو گھر جاتے ھوئے کچھ پیسے بن جائیں گے… اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو عورتیں بابا جی سے پچھلی سیٹ پر جا بیٹھیں…

باجی! کہاں جانا ھے آپ کو؟“ ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھالتے ھوئے کہا۔۔
“ہمیں حیات نگر جانا ھے“ ایک عورت نے جواب دیا…
ٹھیک ھے باجی… اور بابا جی اب آپ بھی بتا ھی دیں کہ آپ کو کہاں جانا ھے“ ڈرائیور نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا..
“میں آپ کو بتا تو چکا ھوں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں… عزرائیل… اور یہ کہ تمھاری موت گاڑی میں لکھی ھوئی ھے… مجھے اور کہیں نھیں جانا۔“
“ہاہاہاہا… ویگن میں ایک بار پھر قہقہہ بلند ھوا… “سنو سنو باجی! یہ بابا جی کہتے ھیں کہ میں موت کا فرشتہ ھوں… 

 ڈرائیور نے خواتین کو مخاطب کر کے قہقہہ لگایا اور گاڑی مزید تیز کردی۔
“موت کا فرشتہ؟ بابا جی؟ کون بابا؟ کون موت کا فرشتہ؟ یہاں تو کوئی بھی نھیں ھے۔۔۔“ عورتوں نے حیرت سے جواب دیا۔۔
“ آپ دیکھو تو سہی… میرے پیچھے جو سفید کپڑے پہنے بابا جی بیٹھے ھیں… آپ سے اگلی سیٹ پر“ ڈرائیور نے دھیان سے گاڑی چلاتے ھوئے کہا…
“ نہیں تو ادھر تو کوئی بابا جی نہیں ہے….. آپ مذاق کر رہے ھیں…“ عورتوں نے کہا تو ڈرائیور کا رنگ فق ھو گیا
اس نے گاڑی روک دی… اب جو چپکے سے پیچھے دیکھا تو بزرگ کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رھی تھی… جب کہ دونوں عورتیں بےنیاز ھو کر اپنی باتوں میں مگن تھیں… ڈرائیور خوفزدہ ھو گیا اور ڈر کے مارے کانپنے لگا…

“تیری موت اسی گاڑی میں لکھی ھوئی تھی… اب وقت آن پہنچا ہے…“
موت کے فرشتے نے سرد لہجے میں کہا اور ڈرائیور کی طرف اپنا بھاری بھرکم ھاتھ بڑھا دیا… گاڑی میں ایک زوردار چیخ بلند ھوئی… ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا قریبی کھیتوں میں جاتی ھوئی پگڈنڈی پر دوڑ لگادی…
دوڑتے ھوئے اچانک اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو موت کا جعلی فرشتہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی بھگا کے لے جا رھا تھا، جب کہ پیچھے بیٹھی خواتین کے قہقہے بلند ھو رہے تھے… اور ساتھ ھی وکٹری کی علامت بنائی جارھی تھی… ڈرائیور اب موت کے فرشتے کی ساری حقیقت سمجھ چکا تھا…. بےچارا سڑک کے کنارے خالی ھاتھ مل رھا تھا…