Saturday, September 14, 2013

اردو میں سولر پینل کے بارے میں ایک مفید مضمون

اس تحریر میں ہم صرف ان سولر پینل کی اقسام بیان کریں گے جن سے بجلی بنائی جاتی ہے اور ان اقسام میں سے پاکستان کے لئے کونسی بہتر ہے۔ بجلی بنانے والے سولر پینل (Solar Panel) کو پی وی یعنی فوٹووولٹیک پینل (Photovoltaic Panel) کہا جاتا ہے۔ دراصل سولر پینل، سولر سیل (Solar Cell) کا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں کئی ایک سولر سیل کو جوڑ کر ایک پینل تیار کیا جاتا ہے۔ عموماً سولر سیل بیس سے پچیس سال چلتا ہے، اس کے بعد یہ نہیں کہ کام کرنا چھوڑ جاتا ہے بلکہ کارکردگی کم ہو جاتی مگر کام کرتا رہتا ہے۔ بنیادی طور پر سولر سیل کی تین اقسام ہیں۔

(1)مونو کرسٹلائن سیل (Monocrystalline cells)
(2)پولی کرسٹلائن سیل (Polycrystalline cells)
(3)تھِن فلم/ایمارفیس سیل (Thin Film or Amorphous cells)

مونو کرسٹلائن
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس کا ایک سیل سلیکان (Silicon) کے ایک کرسٹل سے تیار ہوتا ہے۔ یہ عموماً کالے رنگ کا ہوتا ہے۔ تھوڑی روشنی میں بھی کام کرتا ہے۔ اس پر پڑنے والی روشنی میں سے 18% ہضم کر کے اس سے بجلی بنا دیتا ہے۔ سولر سیل میں یہ سب سے مہنگا ہوتا ہے اور سب سے حساس بھی۔ اس میں گرمی کی شدت برداشت کرنے کی کم طاقت ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ 25ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت تک اپنی پوری کارکردگی دکھاتا ہے۔ درجہ حرارت کی یہ پیمائش ہر سولر پینل کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے اور ہر سولر پینل پر NOCT یعنی Nominal Operating Cell Temperature کی صورت میں لکھی ہوتی ہے۔ اگر مونوکرسٹلائن سولر پینل کے کچھ سیل زیادہ دیر تک روشنی میں ہوں اور اسی وقت میں کچھ سیل سائے میں ہوں تو پھر سیل خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک وقت میں یا تو سارے سیل روشنی میں ہوں یا سارے سائے/اندھیرے میں ہوں

پولی کرسٹلائن
یہ بھی اپنے نام کے مطابق ہے یعنی اس کا ایک سیل سلیکان کے بہت سارے کرسٹل کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ یہ عموماً نیلے رنگ کا ہوتا ہے اور اس میں کہیں کہیں دوسرے رنگ کی لہریں یا دھبے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے اوپر پڑنے والی روشنی میں سے 15% ہضم کر کے اس سے بجلی بناتا ہے اور یوں اگر یہ مونوکرسٹلائن کے سائز جتنا ہو تو پھر اس کی نسبت تھوڑی کم بجلی بنائے گا۔ اس کی قیمت مونوکرسٹلائن کے برابر یا تھوڑی کم ہوتی ہے۔ یہ تھوڑا کم حساس ہوتا ہے اور اسی طرح گرمی کی شدت بھی تھوڑی زیادہ برداشت کرتا ہے۔ عام طور پر یہ 45ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت تک ٹھیک کام کرتا ہے۔ درجہ حرارت کی یہ پیمائش ہر سولر پینل کی مختلف ہو سکتی ہے۔ بالکل مونو کرسٹلائن کی طرح اس کا بھی ایک وقت میں کچھ حصہ روشنی میں اور کچھ حصہ سائے میں ہو تو سیل خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

تھِن فلم / ایمارفیس سیل
اسے کچھ لوگ سولر فلم بھی کہتے ہیں۔ یہ سلیکان کے کرسٹل کی بجائے ایمارفیس سلیکان سے بنا ہوتا ہے۔ عموماً کالے رنگ میں ہوتا ہے۔ یہ اپنے اوپر پڑنے والی روشنی میں سے 10% فیصد ہضم کر کے اس سے بجلی بناتا ہے اور یوں یہ سائز کی مناسبت سے سب سے کم بجلی بناتا ہے۔ یہ سب سے سستا ہوتا ہے اور اس میں گرمی کی شدت برداشت کرنے کی سب سے زیادہ طاقت ہوتی ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مونو اور پولی کی طرح اگر اس کا ایک وقت میں کچھ حصہ روشنی میں اور کچھ حصہ سائے یا اندھیرے میں ہو تو یہ خراب نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ لچک دار ہوتا ہے، یوں وہاں وہاں استعمال ہو سکتا ہے جہاں دیگر دونوں اقسام نہیں ہوتیں۔

چند اہم باتیں
سولر پینل کی اپنی اقسام کے حوالے سے کم یا زیادہ بجلی بنانے سے مراد یہ ہے کہ ایک جتنے سائز میں تینوں اقسام ہوں تو پھر کوئی کم اور کوئی زیادہ بجلی بنائیں گے۔ سولر پینل فی واٹ کے حساب سے ملتا ہے اس لئے چاہے کوئی بھی قسم ہو وہ پورے واٹ دے گی بس مونوکرسٹلائن چھوٹے سائز میں ایک واٹ دے گا اور پولی کرسٹلائن تھوڑے سے بڑے میں اور تھن فلم مزید بڑے سائز میں ایک واٹ دے گی۔
کوئی بھی سولر پینل کتنے درجہ حرارت تک بہتر کارکردگی دیتا ہے یہ درجہ حرارت ہر سولر پینل پر NOCT یعنی Nominal Operating Cell Temperature کی صورت میں لکھا ہوتا ہے۔ اس پیمائش سے جیسے جیسے درجہ حرارت زیادہ ہوتا جاتا ہے، بڑھنے والی ہر ڈگری کے حساب سے اس کی کارکردگی متاثر ہوتی جاتی ہے۔ درجہ حرارت کی وجہ سے کسی سولر پینل کی کتنی کارکردگی متاثر ہو گی یہ سولر پینل پر Temperature coefficient کی صورت میں لکھا ہوتا ہے۔ فرض کریں کسی سولر پینل کا این او سی ٹی 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور ٹمپریچر کوفیشیئنٹ منفی 0.48 فیصد ہے، تو 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک یہ بالکل ٹھیک کام کرے گا لیکن جب درجہ حرارت زیادہ ہونا شروع ہو گا تو 25 سے اوپر والی ہر ڈگری کے ساتھ سولر پینل کی 0.48% کارکردگی متاثر ہو گی، یوں جتنا درجہ حرارت بڑھے گا اتنی ہی زیادہ کارکردگی متاثر ہو گی۔ یاد رہے درجہ حرارت سے مراد ہوا یا ماحول کا درجہ حرارت نہیں ہوتا بلکہ سولر سیل کا اس وقت کیا درجہ حرارت ہے وہ دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ عام طور پر ماحول کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور اسی ماحول میں پڑی ہوئی کسی چیز کا درجہ حرارت زیادہ ہو جاتا ہے، جیسے ہم خود تو دھوپ میں کھڑے ہو سکتے ہیں مگر اسی دھوپ میں زیادہ دیر رکھے ہوئے لوہے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا جا رہا ہوتا۔

سولر پینل کو پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو میرے خیال میں میدانی علاقے جن کا درجہ حرارت گرمیوں میں زیادہ تر35 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے ان کے لئے پولی کرسٹلائن بہتر ہے۔ وہ علاقے جہاں پر ضرورت سے زیادہ گرمی ہوتی ہے اور درجہ حرارت زیادہ تر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہتا ہے ان کے لئے تھِن فلم بہتر ہے۔ زیادہ تر شمالی علاقہ جات یعنی پہاڑی اور ٹھنڈے موسم والے علاقوں کے لئے مونوکرسٹلائن بہتر رہتا ہے۔ یاد رہے درجہ حرارت زیادہ ہونے سے سولر سیل خراب نہیں ہوتے بلکہ بجلی بنانے میں کمی ہو جاتی ہے اور پھر جب درجہ حرارت کم ہو گا تو بجلی زیادہ بنانے لگ جائیں گے۔
پاکستان کے عام میدانی علاقوں میں گرمیوں کا ایک ایسا دن جس میں سارا دن دھوپ ہو۔ اس پورے دن میں اگر مونوکرسٹلائن اور پولی کرسٹلائن کی کل بجلی کا موازنہ کیا جائے تو تقریباً برابر ہی ہو گی یا پھر نہایت معمولی سا فرق ہو گا۔ ہوتا یوں ہے کہ صبح جب سورج نکل رہا ہوتا ہے تو اس وقت مونو زیادہ بجلی بناتا ہے اور پولی کم، جیسے جیسے گرمی کی شدت زیادہ ہوتی جاتی ہے تو مونو کی کارکردگی متاثر ہوتی جاتی ہے اور پولی زیادہ بنانے لگتا ہے اور پھر شام کے وقت واپس مونو زیادہ بناتا ہے۔ یوں دونوں کی کل بجلی تقریباً برابر ہی رہتی ہے۔ البتہ سردیوں میں اور ٹھنڈے علاقوں میں سارا سال مونو کرسٹلائن زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔

نوٹ:-
مونو کرسٹلائن خریدنے والے زیادہ احتیاط اور دھیان سے خریدیں کیونکہ کچھ لٹ مار مچانے والے مونو اور تھن فلم کے ملتے جلتے رنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ گو کہ دونوں کی ساخت میں فرق ہوتا ہے مگر تھِن فلم کو فریم کرنے سے پہلے اس پر سفید اور چمکدار ”سٹیکر“ کچھ اس انداز سے لگاتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے جیسے یہ مونو کرسٹلائن کے سیل ہیں اور چمکدار لائنیں ٹیبنگ وائر (Tabbing Wire) ہیں۔
فرض کریں آپ سو واٹ کا پینل خریدتے ہیں تو پھر چاہے مونو کرسٹلائن ہو یا تھِن فلم، دونوں ہی پورے سو واٹ دیں گے مگر احتیاط اس لئے کرنی ہے کہ ایک تو تھِن فلم زیادہ جگہ گھیرتی ہے اور دوسرا یہ مونوکرسٹلائن کی نسبت کافی سستی ہوتی ہے اور کہیں یہ نہ ہو کہ آپ مونوکرسٹلائن کی قیمت میں تھِن فلم خرید لیں۔
تحریر : محمد بلال محمود۔ mbilalm

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔